انڈیا: نئے متنازع قانون کے تحت پہلی شہریت دے دی گئی


انڈیا نے متنازع نئے قانون کے تحت لوگوں کے پہلے گروپ کو شہریت دے دی ہے۔ اس قانون پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک برتتا ہے۔

بدھ کے روز جاری عام انتخابات کے دوران 14 افراد کو شہریت دی گئی، باوجود اس کے کہ بنگلہ دیش سے ملحقہ ریاستوں میں رہنے والے لوگ شہریت کے ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے نفاذ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

سی اے اے کا نفاذ 2019 کے آخری عام انتخابات سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں کیے گئے کلیدی وعدوں میں سے ایک تھا۔

حکومت نے کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ اجے کمار بھلا نے انڈین شہریت کے سرٹیفکیٹ لوگوں کے حوالے کیے کیونکہ وصول کنندگان نے اپنے دستاویزات کی تصدیق کے بعد حلف اٹھایا۔ وزارت داخلہ نے ان کی شناخت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مارچ میں نافذ ہونے والا یہ قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کو انڈین شہریت کے لیے درخواست دینے کا حق دیتا ہے جو 31 دسمبر 2014 سے پہلے انڈیا پہنچے تھے، لیکن صرف اس صورت میں جب وہ ان مسلم اکثریتی ممالک میں اقلیتی مذہبی گروہوں سے تعلق رکھتے ہوں، یعنی ہندو، پارسی، سکھ، بدھ، جین اور عیسائی۔

مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون، جو 2019 میں نافذ کیا گیا تھا لیکن اس وقت پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے فوری طور پر نافذ نہیں کیا گیا تھا، ’پناہ گزینوں کے حق میں‘ ہے۔ حکومت کو دہلی اور دیگر شہروں میں زبردست ردعمل اور فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون انڈیا کے سیکیولر آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکومت پر مسلم برادری کو نشانہ بنانے اور پارٹی کے ’ہندو پہلے‘ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ منظم طریقے سے امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو پناہ گزین ہریش کمار، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہلی میں مقیم ہیں، نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا، ’یہ ایسا ہی ہے جیسے دوبارہ جنم لینا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر کسی شخص کے پاس حقوق نہیں ہیں تو پھر کیا فائدہ، اب ہم تعلیم، ملازمتوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

اس سال اس قانون کے نفاذ کے بعد سے، بنگلہ دیش کی سرحد سے ملحقہ انڈین ریاستوں میں تشدد کے چند واقعات پیش آئے ہیں، جہاں لوگوں کو خدشہ ہے کہ سی اے اے شہریوں کے تجویز کردہ انڈیا بھر پر محیط قومی رجسٹر (این آر سی) کے ساتھ مل کر، مسلمانوں اور قبائلی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف امتیازی سلوک اور ان کی ممکنہ ملک بدری کا باعث بن سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمال مشرقی ریاست آسام کو اس وقت سے بدامنی کا سامنا ہے جب سے شہریوں کا قومی رجسٹر کا نفاذ ہوا تھا، جو مبینہ طور پر ان لوگوں کو ختم کرنے کے لیے تھا جو غیر قانونی طور پر انڈیا آئے تھے، جن کی تعریف 1971 کے بعد سرحد پار آسام میں ہجرت کرنے والے کسی بھی شخص کے طور پر کی گئی تھی۔ یہ قانون رہائشیوں کو پابند بناتا ہے کہ اپنی شہریت کا ثبوت دینے کے لیے دستاویزات یا پھر ملک بدری کا خطرہ مول لیں۔

اسی طرح کے اصول کے بارے میں قیاس آرائیوں نے پچھلے مہینے خوبصورت ریاست میگھالیہ میں احتجاج کو جنم دیا، جہاں کھاسی طلبہ یونین (کے ایس یو) کے مظاہروں کے بعد ایک 35 سالہ اور 24 سالہ شخص مردہ پایا گیا جو سی اے اے کے نفاذ کی مخالفت کر رہے تھے۔

چیراپونجی شہر سے 30 کلومیٹر دور واقع ایچامتی کے ایک رہائشی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’یہاں ایک عرصے سے صورت حال کشیدہ ہے۔ لوگ اسے بلند آواز میں نہیں بول سکتے لیکن ہر کوئی ممکنہ پرتشدد تنازعے سے ڈرتا ہے۔‘

ریاست کے دیگر حصوں میں اس وقت تشدد پھیل گیا تھا جب کے ایس یو کے ارکان نے ایک مقامی پولیس سٹیشن کے باہر مظاہرہ کیا جس میں ہلاکتوں کے بعد گرفتار ہونے والے اپنے ارکان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ریاست کے دارالحکومت شیلانگ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ نقاب پوش اور ہیلمٹ پہنے پانچ افراد نے ماولائی پولیس اسٹیشن کی طرف پٹرول بم پھینکا اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

میگھالیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں اور اموات کے درمیان کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایسٹ کھاسی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ رتوراج روی نے کہا، ’صورت حال پرسکون ہے۔ ہم نے تمام گروہوں سے امن برقرار رکھنے کو کہا ہے۔ جاری انتخابات کے لیے پولیس کی اضافی موجودگی نے بھی مدد کی ہے۔‘

2019  میں پارلیمنٹ کی طرف سے شہریت کے قانون کی منظوری کے بعد سے میگھالیہ میں غیر قبائلیوں کے خلاف متعدد قتل اور تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

مغربی بنگال میں، جہاں ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے اس قانون کی شدید مخالفت کی ہے، مارچ میں سی اے اے کے نفاذ کے فوراً بعد ایک 31 سالہ شخص نے خودکشی کر لی۔

پولیس نے اہل خانہ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دیباشیش سین گپتا ’سی اے اے کی وجہ سے خوفزدہ ہو کر خودکشی کر بیٹھے۔‘

متاثرہ کے والد تپن سین گپتا نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا بیٹا اس بات سے پریشان تھا کہ ’وہ اپنی شہریت کیسے ثابت کرے گا اور اکثر پوچھتا رہتا تھا کہ اگر اس کی شہریت منسوخ کر دی گئی تو وہ کیا کرے گا۔‘

بینرجی کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت ’ایسی کسی بھی چیز کی مخالفت کرے گی جو لوگوں کے ساتھ امتیاز کرتی ہے،‘ لیکن اب تک نہ تو ریاست اور نہ ہی مرکزی حکومت نے عوامی خدشات کو دور کرنے کے لیے زیادہ کچھ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون جزوی طور پر مغربی بنگال میں سابق مشرقی پاکستان سے آنے والی تارکین وطن برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ اس متوا برادری کے بہت سے ارکان، جو ریاست بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، نے 2019 میں شہریت دینے کے وعدے پر بھروسہ کرتے ہوئے بی جے پی سے وفاداری استوار کر لی تھی۔

تاہم، یہ برادری اب ایک دوراہے پر کھڑی ہے جب برادری کے رہنماؤں نے اپنے ارکان کو موجودہ بنگلہ دیش میں اپنے پچھلے رہائشی پتے ثابت کرنے والے ضروری دستاویزات کی عدم موجودگی کی وجہ سے شہریت کی درخواستیں جمع کرانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز متوا برادری کے لوگوں کو یقین دلایا کہ انہیں شہریت دے دی جائے گی۔

مغربی بنگال میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد پر مشتمل یہ برادری ریاست میں تقریباً نصف درجن لوک سبھا (پارلیمنٹ کا ایوان زیریں) کی نشستوں پر ووٹوں کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

انڈیا میں 19 اپریل کو سات مرحلوں پر مشتمل انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوا تھا جس کے لیے نریندر مودی نے اپنے معاشی ریکارڈ، گورننس اور مقبولیت کی نمائش کر کے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ لیکن پہلے مرحلے میں متوقع ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ہونے کے بعد انہوں نے خاص طور پر اپنا رخ تبدیل کر لیا ہے، اس کے بجائے جلسوں میں کی جانے والی تقریروں میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس پر مسلمان نواز ہونے کا الزام لگایا ہے۔



Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top