ایم کیو ایم پاکستان نے اپنا تنظیمی ڈھانچہ کیوں تبدیل کیا؟


متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم)  پاکستان نے کنوینرشپ کا عہدہ ختم کرتے ہوئے اپنا نیا تنظیمی ڈھانچہ بحال کر دیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے بتایا کہ رابطہ کمیٹی بہت بڑی ہو گئی تھی اور اس کی وجہ سے کچھ مسائل بھی آ رہے تھے۔

فاروق ستار کے مطابق دس رکنی مرکزی کمیٹی کے اتفاق سے طے پایا ہے کہ چیئرمین خالد مقبول کو بنایا جائے جس سے پارٹی میں کسی قسم کا فرق نہیں آئے گا۔

’ہم نے صرف عہدے میں تبدیلی کی ہے اور مزید تبدیلیاں مستقبل میں دیکھنے میں آ سکتی ہیں جس میں مرکزی کمیٹی سے نیچے کونسل کمیٹی بھی تشکیل دیں گے۔ مرکزی کمیٹی کیبینیٹ کے معاملات دیکھے گی اور کونسل کمیٹی اسمبلی کے معاملات دیکھے گی۔‘

خالد مقبول صدیقی کو اچانک چیئرمین بنانے کے بعد تنظیم کے اندر اور باہر مختلف سوالات اٹھنے لگے ہیں، جن پر صحافی سید فیصل حسین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا ایم کیوایم کے آئین میں خاموشی سے ترمیم کر لی گئی ہے جس کا کسی کو پتہ نہ چل سکا یا پھر طاقتور لوگوں کے آشیرباد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’سپریم کورٹ جس نے تحریک انصاف کے آئین پر فیصلے کیے کیا ایم کیو ایم کے آئین کا جائزہ لے گی یا خاموش رہے گی؟‘

اس بارے میں صحافی سہیل رب کا کہنا ہے کہ ’ایم کیو ایم نے پہلے رابطہ کمیٹی تحلیل کی، ایڈہاک رابطہ کمیٹی بنائی، پھر ایڈہاک رابطہ کمیٹی مرکزی کمیٹی میں تبدیل ہوئی اور اب چیئرمین شپ ہو گئی۔ ایم کیو ایم پاکستان سیاسی پارٹی کے بجائے  ڈکٹیٹر شپ کی طرف جا رہی ہے۔‘

سہیل رب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خالد مقبول صدیقی کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ تمام فیصلے براہ راست کر سکتے ہیں اور دس رکنی مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو مان بھی سکتے ہیں اور رد بھی کر سکتے ہیں۔‘



Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top