تحفظ اور استثنیٰ – Roznama Sahara اردو


مغربی بنگال میں انتخابی گہماگہمی کے درمیان سیاسی جماعتوں کاسفلہ پن اپنے جوبن پر پہنچاہوا ہے۔ مذہب کے حوالے سے جو کچھ ہورہاہے، اس نے ریکارڈ ہی بنالیا ہے۔ہرطرف نفرت انگیز تقریریں اور جھوٹے الزامات کاسیل رواں نظرآرہاہے۔ اعلیٰ ترین آئینی عہدوں پر بیٹھے قائدین ملک جس طرح سے آئین اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑارہے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ریاست کی دولت کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے، ریزرویشن چھین کر مسلمانوں کو دینے، ہندوخواتین سے منگل سوتر تک چھین لیے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ہر سیاسی جماعت اپنی بساط بھر کوشش کررہی ہے کہ اپنے حریف کو عوام کی نظر میں بدنام کرے اور اس کے حصہ کا ووٹ بھی خود حاصل کرلے۔ کہیں بے روزگاری، مہنگائی کا نوحہ پڑھاجارہاہے تو کہیں خواتین کی عزت و عصمت کے حوالے دیے جارہے ہیں۔مغربی بنگال کی سیاسی فضا میں ان دنوں سندیش کھالی میں خواتین کی مبینہ بے حرمتی کا ذکرزوروں پر ہے۔ وزیراعظم، وزیرداخلہ، وزیر دفاع اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے کم و بیش تمام لیڈران کا دعویٰ ہے کہ مغربی بنگال میں خواتین کی عزت و عصمت محفوظ نہیں ہے۔ ریاست مغربی بنگال کی حکمراں جماعت کے پالتو غنڈے،مختلف سرکاری اسکیموں کا فائدہ پہنچانے کے نا م پر بنگالی خواتین کی حرمت پامال کررہے ہیں۔ان الزامات میں کتنی صداقت ہے یا پھر سندیش کھالی کی عورتوں کے احتجاج کے پس پشت کیا کیا عوامل کارفرما ہیںیا یہ کہ اس مسئلہ کوسیاسی میدان میںا چھال کر کون سی جماعت اپنے جھنڈے گاڑنا اور حریف کو دھول چٹانے کی خواہش مند ہے یہ تو اب کھلا ہوا راز بن گیا ہے جس کا ذکر پھر کبھی۔

سردست معاملہ مغربی بنگال کے گورنر ڈاکٹر سی وی آنند بوس کے دامن پرلگنے والے حیاسوزمعاملہ کا ہے۔انتخابی گرماگرمی کے ساتھ ہی راج بھون کے مکین سرخیوں میںآگئے ہیں۔راج بھون کی ایک عارضی خاتون کارکن نے ان پر چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا ہے۔ پولیس کو دی گئی اپنی تحریری شکایت میں خاتون نے کہا ہے کہ گورنر کے دفتر اور کانفرنس روم میں دومختلف دنوں میں اس کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی ہے۔ خاتون نے اس چھیڑ خانی کا الزام گورنر ڈاکٹرسی وی آنند بوس پر لگایا ہے۔ پولیس کو تحریری بیان دینے کے بعد شکایت کنندہ خاتون نے میڈیا میں بھی اپنا دعویٰ مضبوطی سے پیش کیاہے۔گورنر کے خلاف لگائے گئے چھیڑ چھاڑ کے الزامات میں کتنی صداقت ہے، اس سے قطع نظر اس الزام نے مغربی بنگال میں سنسنی پیدا کردی ہے۔

یادنہیں آرہاہے کہ آزاد ہندوستان میںعہدہ پر رہتے ہوئے کسی گورنر پر اس طرح کے الزامات لگائے گئے ہوں۔کولکاتا پولیس نے اس واقعہ کیلئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اورتفتیش کی ڈور پکڑ کر صداقت کی منزل تک پہنچنا چاہتی ہے۔ کولکاتا پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیلئے راج بھون کے کچھ مقامات کی کلوزڈسرکٹ ٹیلی ویژن کی ریکارڈنگ درکار ہے اور وہ راج بھون کے کچھ کارکنوں سے بات چیت بھی کرناچاہتی ہے۔ اس کیلئے راج بھون کی انتظامیہ کواس نے تحریری مکتوب بھی بھیجا۔ لیکن گورنر پولیس کے اس اقدام پر سخت معترض ہیں اورپولیس کے مطالبات پر چراغ پا ہوکر اپنے ماتحت اسٹاف کو سرکلر جاری کردیا ہے کہ وہ اس معاملے میں پولیس سے کسی بھی طرح کا تعاون نہ کریں۔ گورنر کاکہنا ہے کہ آئین کی شق 361،شق 2 اور 3 صدر یا گورنر کے خلاف فوجداری مقدمات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔گورنر نے اس آئینی ’تحفظ‘ کی بھی یاد دلائی جس میں ان کوکسی بھی قسم کی پولیس تفتیش یا تلاشی سے استثنیٰ حاصل ہے۔اپنے دو صفحات کے طویل پیغام میں گورنر نے استثنیٰ اور تحفظ کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’ سچائی کی فتح ہوگی‘۔اب یہ توگورنر ہی بتائیں گے کہ تفتیش میںرخنہ اندازی اور آئین کا حوالہ دے کر استثنیٰ حاصل کرلینے کے بعد وہ کس طرح کی سچائی کو فتح یاب کرائیں گے؟فرض کرلیاجائے یہ الزامات ’ جھوٹے‘ ہیں اور کسی نے گورنر کے خلاف ’ سازش ‘ کی ہے تو بھی یہ بغیر کسی تفتیش، چھان بین، متعلقین سے بات چیت، فریقین کے دعویٰ اور موقف کو سنے بغیر کیسے ثابت کیاجاسکتا ہے ؟

اس کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی ذہن میں ابھرتے ہیںکہ قانون کی نظر میں سب کے برابر ہونے کا کیا مطلب رہ جاتاہے، جب گورنر کے عہدہ پر براجمان کسی شخص کے خلاف تحقیقات ہی نہیں کی جاسکتی ہوں تو پھر راج بھون کی خاتون کارکن کی شکایت کیسے دور ہوگی، سچائی کیسے سامنے آئے گی اور پھر قانون سے بالاتر کوئی نہیں کا دعویٰ کیسے سربلند ہوگا؟تمام شہریوں کو قانون کے تحت انصاف کا حق کیسے ملے گا؟تو کیا آئین کے فراہم کردہ ’تحفظ‘ کی وجہ سے ایسے سنگین الزامات میں کسی کو قانون سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا جواب ملنا ضروری ہے۔ گورنر کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اور ڈاکٹر سی وی آنندبوس بحیثیت گورنر ریاست مغربی بنگال میں فی الحال آئین کے متولی ہیں۔عہدہ کے وقار کا تقاضا تو یہ بھی تھا کہ ایسے سنگین الزام کے بعد گورنر رضا کارانہ طور پر خود کو تفتیش کیلئے پیش کرتے بلکہ ’عوام کے ذہن پرچھائی شک و شبہ کی دھند صاف ہونے تک عہدہ سے بھی دور رہتے تاکہ ان پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ بلند اخلاق اور اعلیٰ حوصلگی کا ثبوت دینے کے بجائے اپنے سر پر ’تحفظ اور استثنیٰ ‘ کاسائبان تان لینا عہدہ کے وقار کے منافی ہی کہاجائے گا۔
[email protected]


سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Click 👉 https://bit.ly/followRRS

Previous articleیہ کیا ہوا ؟: زین شمسی
Editorial

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top