جماعت اسلامی جموں و کشمیر


جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر 28 فروری 2019 کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد پابندی لگائی گئی تھی۔

جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سابق امیر غلام قادر وانی (تصویر بہ شکریہ: Video screengrab/X/@Qayoomiousf)

جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سابق امیر غلام قادر وانی (تصویر بہ شکریہ: Video screengrab/X/@Qayoomiousf)

نئی دہلی: جماعت اسلامی جموں و کشمیر (جے آئی جے کے) الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ سال 2019 میں جے آئی جے کے پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت پابندی لگا دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، 15 مئی کو سری نگر لوک سبھا حلقہ میں ووٹ ڈالنے والے جے آئی جے کے کے سابق سربراہ غلام قادر وانی نے کہا ہے، ‘ہم نے کسی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ کشمیر کے حالات کی وجہ سے ہم انتخابات سے دور رہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘ہم مرکز کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر جماعت سے پابندی ہٹائی جاتی ہے تو ہم انتخابات (آئندہ اسمبلی) میں حصہ لیں گے۔

جے آئی جے کے ایک کیڈر پر مبنی تنظیم ہے۔ اسے کشمیر کے سب سے بڑے عسکری گروپ حزب المجاہدین کا آئیڈیالوجیکل سورس بھی خیال کیا جاتا ہے۔

معلوم ہو کہ 2019 میں جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد 28 فروری 2019 کو جے آئی جے کے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ پلوامہ میں 40 سے زائد جوان ہلاک ہوئے تھے اور چار درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

وانی نے دعویٰ کیا ہے کہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ تنظیم کی مجلس شوریٰ  کی ایک اہم میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا،’اگر جماعت سے پابندی ہٹا لی جاتی ہے تو ہم جمہوری عمل میں حصہ لینے کے لیے پرعزم ہیں۔

جماعت نے وانی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ‘بیان جاری کیا’

جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی ایک پریس ریلیز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے، جس میں وانی کے اس دعوے کو مسترد کیا گیا ہے کہ انتخابات پر فیصلہ مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔

ریلیز میں لکھا گیا ہے، ‘وانی نے جو کچھ کہا ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے۔’

دی وائر اس تنظیم کے سری نگر میں مقیم ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان کی صداقت کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

وانی کا اعلان وزیر داخلہ امت شاہ کے کشمیر کے دورے کے ساتھ میل کھاتا ہے، جو لوک سبھا انتخابات کے درمیان جمعرات (16 مئی) کو سری نگر پہنچنے والے ہیں۔ ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ شاہ سری نگر میں مختلف وفود سے ملاقات کرنے والے ہیں جن میں سول سوسائٹی کے کچھ لوگ، بی جے پی کارکنان اور کارکن شامل ہیں۔

کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جماعت کے کچھ رہنما شاہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم، دی وائر فوری طور پر ان خبروں کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔

عمر عبداللہ نے کی جماعت سے پابندی ہٹانے کی مانگ

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وانی کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے پابندی ہٹانے اور جے آئی جے کے کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔

عبداللہ نے کہا ہے، ‘انہیں انتخابات میں حصہ لینے دیجیے۔ جماعت نے جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوران مختلف امیدواروں اور جماعتوں کی مدد کی ہے۔ اب تنظیم دوسروں کے بجائے اپنے لیے کام کرے تو بہتر ہوگا۔’

جموں و کشمیر میں جماعت کے تقریباً 6000 ارکان ہیں۔ 2019 سے پہلے بھی اس تنظیم پر دو بار پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جماعت پر پہلی بار 1975 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے پابندی لگائی تھی۔ دوسری بار اس تنظیم پر 1990 سے 1995 کے دوران کشمیر میں مسلح شورش شروع ہونے کے بعد پابندی لگائی گئی تھی۔

سال 2019 میں تنظیم کو غیر قانونی قرار دینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے بعد جماعت کے خلاف چھاپے اور گرفتاریاں بڑھ گئی تھیں۔

مرکزی حکومت کی کارروائی نے جماعت کی کمر توڑ دی۔ یہ تنظیم پہلے تعلیم، امدادی کاموں اور دیگر سماجی مسائل سمیت سماجی اور مذہبی سرگرمیوں میں شامل تھی۔ پابندی کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے جماعت کے زیر انتظام کئی اسکولوں کو بند کر دیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت تنظیم کے کروڑوں روپے کے اثاثوں کو ضبط کر لیا گیا تھا۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ احتیاطی نظر بندی کے قوانین کے تحت سرکردہ رہنماؤں سمیت  جماعت کے 300 سے زائد ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، مرکزی حکومت نے جماعت کو جموں و کشمیر کے مسئلے کا حصہ سمجھتے ہوئے کارروائی کی کیونکہ ماضی میں تنظیم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ‘مسئلہ کشمیر’ کے حل کی وکالت کی تھی۔ وہیں  کچھ دوسرے تجزیہ کاروں کی دلیل ہے کہ حکومت نے جموں و کشمیر میں جماعت کے اثر و رسوخ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔

جماعت اسلامی پہلے بھی الیکشن لڑ چکی ہے

جماعت کشمیر کی قدیم ترین سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔ اس تنظیم کے لیے تحریک کا سرچشمہ ‘جماعت اسلامی پاکستان’ کے بانی ابو الاعلیٰ مودودی ہیں۔ جے آئی جے کے کا اپنا آئین ہے، جو 1952 میں تیار کیا گیا تھا۔ تنظیم نے 1965 سے 1987 تک جموں و کشمیر میں الیکشن لڑ کر اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔

ڈاکٹر منظور احمد نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں بتایا ہے کہ جماعت کے لیے الیکشن ایک ٹول تھا۔ تنظیم نے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاکہ وہ اپنی حمایت میں اضافہ کر سکے۔ اسلامائزیشن کا اپنا منصوبہ مکمل کر سکے۔

احمد کا تحقیقی مقالہ منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس نے 2021 میں شائع کیا تھا۔

سال 1972 کے اسمبلی انتخابات میں جماعت اپنے عروج پر تھی۔ اس الیکشن میں جماعت نے پانچ سیٹیں جیتی تھیں۔ بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی بھی منتخب ہونے والوں میں شامل تھے۔ بعد کے سالوں میں گیلانی نے جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے کو بہت متاثر کیا۔ جماعت پہلے کے انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی حمایت کر چکی ہے۔

جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کا امکان

مارچ 2020 میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی بنی تھی۔ بی جے پی جموں کی دو سیٹوں کو چھوڑ کر کشمیر میں عام انتخابات نہیں لڑ رہی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ بی جے پی ‘جموں کشمیر اپنی پارٹی’ کی حمایت کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بی جے پی سے منظوری ملنے کے بعد جماعت کے رہنماؤں سے رابطہ کیا ہوگا تاکہ انہیں قومی دھارے میں لایا جا سکے۔ اس سال فروری میں بخاری نے جماعت کے ارکان سے اپیل کی تھی کہ وہ سیاست سے دور رہیں اور اپنی مذہبی سرگرمیوں پر توجہ دیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں جماعت کے ایک اہم رکن نے ‘جموں کشمیر اپنی پارٹی’ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے ہفتوں میں جماعت اسلامی میں پھوٹ پڑنے کا امکان ہے۔ جماعت کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ غیر تصدیق شدہ پریس ریلیز جموں و کشمیر کی سب سے بڑی سماجی و سیاسی تنظیموں میں سے ایک بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ جماعت سے پابندی اتنی جلد ہٹنے کا امکان نہیں ہے۔ اس سال فروری میں ہی تنظیم پر پابندی میں پانچ سال کی توسیع کی گئی تھی۔



Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top