جنرل اسمبلی نے فلسطین کے اقوام متحدہ کے مکمل رکن بننے کی حمایت کر دی


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو فلسطین کی اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کی کوشش کی حمایت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کا رکن بننے کا اہل تسلیم کیا اور سلامتی کونسل سے ’معاملے پر ہمدردانہ انداز میں نظر ثانی‘ کی سفارش کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کی جانب سے یہ ووٹ اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کے لیے فلسطینیوں کی حمایت میں عالمی سروے ہے۔

اس عمل کے تحت فلسطین کو ریاست کے طور پر مؤثر انداز میں تسلیم کیا جانا ہے۔ امریکہ نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حوالے سے قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

جمعے کو جنرل اسمبلی نے حق میں آنے والے 143 ووٹوں سے قرارداد منظور کر لی۔ نو ووٹ مخالفت میں ڈالے گئے جن میں امریکہ اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔

25 ملکوں نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ اس قرارداد سے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت نہیں ملے گی لیکن اسے محض رکن بننے کا اہل تسلیم کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد ’اس بات کا تعین کرتی ہے کہ فلسطین ایک ریاست ہے اس لیے اسے رکن بنایا جائے اور یہ سفارش کرتی ہے کہ سلامتی کونسل اس معاملے پر ہمدردانہ انداز میں نظر ثانی کرے۔‘

اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے فلسطینیوں کی کوششیں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کے آغاز کے سات ماہ بعد سامنے آئی ہیں اور ایک ایسے وقت میں کہ جب اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم بستیوں میں توسیع کر رہا ہے، جسے اقوام متحدہ نے غیر قانونی عمل قرار دیا ہے۔

قرارداد پر رائے شماری سے قبل جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں فلسطین سفیر ریاض منصور نے کہا: ’ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ (قرارداد کی ) حمایت میں ووٹ فلسطین کے وجود کے حق میں ووٹ ہے۔ یہ کسی ریاست کے خلاف نہیں ہے۔ یہ امن میں سرمایہ کاری ہے۔‘

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے جمعے کو رفح پر بمباری کی ہے۔ قبل ازیں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مذاکرات کاروں نے فائر بندی کے لیے کسی معاہدے پر پہنچے بغیر بات چیت چھوڑ دی۔

اے ایف پی کے نمائندوں نے رفح پر توپ خانے سے کی جانے والی گولہ باری کا اس موقعے پر مشاہدہ کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر جنوبی غزہ شہر پر بڑا حملہ کیا گیا تو اسرائیل کے لیے توپوں کے گولے اور دیگر ہتھیاروں کی فراہمی روک دی جائے گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بائیڈن نے اسرائیل پر امریکہ کا حتمی دباؤ بڑھایا اور سالانہ تین ارب ڈالر کی مجموعی فوجی امداد بند کرنے کی بات کی۔ قبل ازیں امریکہ نے اسرائیل سے رفح سے باہر رہنے کی بار بار اپیل کی۔

بین الاقوامی مخالفت کے باوجود اسرائیلی فوجی منگل کو رفح کے مشرقی حصے میں داخل ہو گئے اور دعویٰ کیا کہ وہ عسکریت پسندوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک کم ازم 34 ہزار 904 فلسطینی شہری جان سے جا چکے ہیں جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے رواں ہفتے مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر کے اسے بند کر دیا تھا۔ اس مقام سے ایندھن علاقے میں لایا جاتا ہے۔ قبل ازیں اسرائیل نے مشرقی رفح کے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقے کرم ابو سالم کے ساتھ اس کی جنوبی گزرگاہ بدھ کو دوبارہ کھول دی گئی۔ جمعے کو اس نے کہا تھا کہ فضائی دفاع نے ’رفح کے علاقے سے‘ کیا جانے والا ایک حملہ روک دیا۔

غزہ میں زیادہ تر امداد کرم ابو سالم کے راستے سے آتی ہے لیکن مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر او سی ایچ اے کے سربراہ اینڈریا ڈی ڈومینیکو کا کہنا ہے کہ کرم ابو سالم کے راستے سے امداد کا داخلہ مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام امدادی سامان کے داخلے مرکزی مقام سے محروم ہو چکے ہیں۔‘ جمعے کو اقوام متحدہ نے کہا کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد رفح سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مصر کی سرحد پر واقع اس شہر میں 14 لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ حملوں کے آغاز پر اسرائیل نے فلسطینیوں کو غزہ کے جنوب میں ’محفوظ علاقوں‘ میں منتقل ہونے کے لیے کہا تھا جن میں رفح بھی شامل ہے۔

خستہ حال گاڑیوں، یہاں تک کہ گدھا گاڑیوں پر گدوں اور دیگر سامان کے ڈھیر کے ساتھ نقل مکانی کرنے والے ایک بار پھر آگے بڑھ رہے ہیں جب کہ بمباری سے تباہ حال عمارتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کے پیچھے دھول اڑتی دکھائی دی۔

بہت سے لوگ خان یونس شہر واپس جا چکے ہیں، جہاں اس سال کے اوائل میں شدید حملے جاری رہے یا پھر لوگ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلاح میں سمندر کے کنارے قائم پناہ گاہوں میں جمع ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ مشرقی رفح میں آپریشن جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق: ’غزہ کی جانب رفح کراسنگ پر فوجیوں نے شدید لڑائی اور فضائی حملے میں کئی ٹھکانے ختم کیے۔‘

عینی شاہدین نے غزہ شہر میں فضائی حملوں اور لڑائی کی اطلاع دی ہے۔ القاہرہ نیوز کے مطابق اسرائیل اور حماس کی مذاکراتی ٹیمیں جمعرات کو قاہرہ سے روانہ ہو گئیں۔ مصر نے اس بات چیت کو غزہ میں فائر بندی کی شرائط پر بالواسطہ مذاکرات کے دو روزہ دور کا نام دیا۔

مصر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مصری وزیر خارجہ سامح شکری اور امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے ٹیلی فون پر بات چیت میں ’فریقین پر زور دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا کہ وہ لچک کا مظاہرہ کریں اور فائر بندی کے لیے تمام ضروری کوششیں کریں۔‘

حماس کا کہنا ہے کہ ان کا وفد قطر چلا گیا ہے جہاں تنظیم کی سیاسی قیادت موجود ہے۔

حماس نے کہا کہ عملی طور پر قابض (اسرائیل) نے ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کردیا اور کئی بنیادی امور پر اعتراضات اٹھائے۔ حماس کے مطابق اس نے تجویز کی حمایت کی۔ ’گیند اب مکمل طور پر قبضے (اسرائیل) کے کورٹ میں ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حماس کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا، حملوں کی وجہ سے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی سمیت فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پر اتفاق کیا جس کا مقصد ’مستقل فائربندی‘ ہے۔

اسرائیل طویل عرصے سے مستقل فائر بندی کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ حماس کو ختم کرے گا۔

بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں، جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اسرائیلی افواج ’رفح میں داخل ہوئیں‘ تو اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی فراہمی روک دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ غزہ میں شہریوں کی جان لینے لیے امریکی بم پہلے ہی استعمال کیے جا چکے ہیں۔

بائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کو 3500 کی فراہمی روک دی کیوں کہ اسرائیل رفح پر حملہ کرنے کے لیے تیار دکھائی دے رہا تھا۔

رفح میں اسرائیل کی کارروائی کے بارے میں پوچھے جانے پر بائیڈن نے کہا کہ ’وہ آبادی کے مراکز میں نہیں گئے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے امریکی دھمکی پر براہ راست کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ’ہم اکیلے کھڑے رہیں گے۔‘

غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ فلپ لازارینی نے جمعرات کی رات کہا کہ وہ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے احاطے میں ’اسرائیلی انتہا پسندوں‘ کے ہاتھوں آتشزنی کے بعد اپنا ہیڈکوارٹر بند کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے لیے فلسطینیوں کی مہم کو ناکام بنانے والے امریکی ویٹو کے بعد فلسطینی جنرل اسمبلی سے رجوع کر رہے ہیں۔

سفارت کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی مکمل رکنیت پر زور دینے والی قرارداد کی جمعے وسیع پیمانے پر حمایت  کا امکان ہے جس سے انہیں عالمی ادارے میں کچھ اضافی حقوق اور ایک علامتی فتح ملے گی۔



Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top