حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں کانگریس اور بی جے پی کی زور آزمائی، حلقہ میں جملہ 29 لاکھ، 38 ہزار 370 ووٹرز : خصوصی رپورٹ


حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں کانگریس اور بی جے پی کی زور آزمائی، بی آر ایس ہیٹ ٹریک کے لیے کوشاں!
حلقہ میں شامل سات اسمبلی حلقہ جات میں جملہ 29 لاکھ، 38 ہزار 370 ووٹرز

حیدرآباد/وقارآباد : 12؍مئی
(سحرنیوز؍میڈیا ڈیسک)

حیدرآباد کے مضافاتی ضلع رنگاریڈی اور 45 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود اضلاع رنگاریڈی اور وقارآباد کے سات اسمبلی حلقہ جات پر مشتمل حلقہ پارلیمان چیوڑلہ اور اس کے دیہی علاقے انتہائی زرخیز مانے جاتے ہیں۔جہاں سے روزآنہ صبح کی اولین ساعتوں میں بشمول گلاب ہمہ اقسام کے پھولوں، پھلوں، ترکاریوں،سبزیوں اور دودھ کو حیدرآباد کی مارکیٹس میں منتقل کیا جاتا ہے۔جبکہ اسی پارلیمانی حلقہ میں موجود معین آباد اور منے گوڑہ کے فارم ہاوزس اور اس پارلیمانی حلقہ میں کاشت کی جانے والی آم، تور اور چاول کی فصلیں بھی ایک منفرد شناخت کی حامل ہیں۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں رنگاریڈی ضلع کے چار اسمبلی حلقہ جات راجندر نگر،سیری لنگم پلی، مہیشورم اور چیوڑلہ کےعلاوہ وقارآبادضلع کے اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، پرگی اور تانڈور شامل ہیں۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں جملہ 29 لاکھ 38 ہزار 370 رائے دہندے موجود ہیں۔
جن میں مرد رائے دہندگان کی تعداد 15 لاکھ 4 ہزار 260 ہے۔
جبکہ 14 لاکھ 33 ہزار 830 خاتون رائے دہندگان کے علاوہ 280 تیسری صنف کے رائے دہندگان شامل ہیں۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 16 فیصد سے زائد مسلم رائے دہندگان کا موقف فیصلہ کن ہے۔وہیں اس حلقہ میں ایس سی طبقہ کے ووٹرس کی تعداد زائد از 15 فیصد اور ایس ٹی طبقہ کے ووٹرس کا تناسب زائد از 6 فیصد ہے۔

2011ء کی مردم شماری کا جائزہ لیا جائے تو حلقہ پارلیمان چیوڑلہ کے 57 فیصد سے زائد رائے دہندگان کاتعلق شہری علاقوں سے اور 43 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔اس حلقہ کی شرح خواندگی کا تناسب زائد از 68 فیصد ہے۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں شامل ضلع رنگاریڈی کے : 

حلقہ اسمبلی مہیشورم میں جملہ 5 لاکھ 56 ہزار 741 رائے دہندگان۔(مرد : 2 لاکھ 85 ہزار 137/ خواتین: 2 لاکھ 71 ہزار 538 اور 66 تیسری صنف)
حلقہ اسمبلی راجندر نگرمیں 6 لاکھ 12 ہزار 170 رائے دہندگان۔ (مرد : 3 لاکھ 16 ہزار 979 / خواتین : 2 لاکھ 95 ہزار 153 اور 38 تیسری صنف)
حلقہ اسمبلی سیری لنگم پلی میں 7 لاکھ 58 ہزار 102 رائے دہندگان۔ (مرد : 4 لاکھ 361 / خواتین : 3 لاکھ 57 ہزار 600 اور 141 تیسری صنف)
حلقہ اسمبلی چیوڑلہ میں 2 لاکھ 69 ہزار 960 رائے دہندگان۔(مرد : 1 لاکھ 35 ہزار 429 / خواتین : 1 لاکھ 34 ہزار 526 اور 5 تیسری صنف)

وقارآباد ضلع کے :
حلقہ اسمبلی پرگی میں 2 لاکھ 66 ہزار 566 رائے دہندگان۔ (مرد : 1 لاکھ 33 ہزار 568 / خواتین :1 لاکھ 32 ہزار 989 اور 9 تیسری صنف)
حلقہ اسمبلی وقارآباد میں 2 لاکھ 31 ہزار 639 رائے دہندگان۔ (مرد : 1 لاکھ 14 ہزار 965 / خواتین : 1 لاکھ 16 ہزار 660 اور 14 تیسری صنف)
حلقہ اسمبلی تانڈور میں 2 لاکھ 43 ہزار 192 رائے دہندگان۔ ( مرد : 1 لاکھ 17 ہزار 821 / خواتین : 1 لاکھ 25 ہزار 364 اور 7 تیسری صنف)

ان سات اسمبلی حلقہ جات میں سے تین حلقہ جات پر بی آر ایس کا قبضہ ہے اور چار اسمبلی حلقہ جات کانگریس کے قبضہ میں ہیں۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ پارلیمانی حلقوں کی تشکیل جدید کے بعد 2008ء میں وجود میں آیا تھا اس سے قبل اس کے چند اسمبلی حلقہ جات پارلیمانی حلقہ حیدرآباد میں شامل تھے جس پر پانچ سے زائد مرتبہ کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کا قبضہ تھا۔

2009ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کے سینئر قائد آنجہانی ایس۔جئے پال ریڈی کامیاب ہوئے تھے جو بعد میں وزیراعظم منموہن سنگھ کی مرکزی کابینہ میں وزیر پٹرولیم و دیہی ترقیات کی وزارتیں حاصل کی تھیں۔

جبکہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014ء میں منعقدہ پہلے پارلیمانی انتخابات میں اس وقت کی ٹی آر ایس پارٹی کے امیدوار کونڈا ویشور ریڈی 4 لاکھ 35 ہزار 77 وووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی کامیابی درج کروائی تھی۔ان کے مخالف کانگریسی امیدوارپی۔کارتک ریڈی جو کہ سابق ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی کے فرزند ہیں 3 لاکھ 62 ہزار 54 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر رہے تھے۔ وہیں تلگو دیشم اور بی جے پی کے مشترکہ امیدوار ٹی۔ویریندر گوڑ کو 3 لاکھ 53 ہزار 203 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

اسی طرح 2019ء کے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل کونڈا وشویشور ریڈی ٹی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوتےہوئےکانگریس کے ٹکٹ پر حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سےمقابلہ کیاتھا ان کا مقابلہ اس وقت کے ٹی آر ایس امیدوار ڈاکٹر رنجیت ریڈی اور بی جے پی کے امیدوار جناردھن ریڈی سے تھا۔

2019 کے ان پارلیمانی انتخابات میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 13 لاکھ 998 رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جس میں سے ٹی آر ایس امیدوار ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے جملہ 5 لاکھ 28 ہزار 148 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 14 ہزار 317 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریسی امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی کو شکست سے دوچار کیا تھا۔جو 5 لاکھ 13 ہزار 831 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ وہیں بی جے پی امیدوار جناردھن ریڈی کو 2 لاکھ ایک ہزار 960 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور نوٹا پر 9 ہزار 244 ووٹ ڈالے گئے تھے۔

جاریہ سال ماہ مارچ میں موجودہ رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی بی آر ایس پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرتےہوئے کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے اورحلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس نے دوبارہ انہیں اپنا امیدوار بنایاہے۔جبکہ گزشتہ سال سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈاوشویشور ریڈی کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اب حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے وہ بی جے پی کے امیدوار ہیں۔وہیں بی آر ایس پارٹی نے سابق رکن قانون ساز کونسل و سابق صدر ضلع پریشد کاسانی گنانیشور مدیراج کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ جہاں کل 13 مئی، بروز پیر رائے دہی ہونے والی ہے میں انتخابی مہم کا 11 مئی کی شام 5 بجے اختتام ہوگیا۔جو کہ عروج پر رہی تھی۔

اس طرح کانگریس اور بی جے پی اپنے اپنے امیدواروں رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی اورسابق رکن پارلیمان کونڈا وشویشور ریڈی کی کامیابی کے لیے زور آزمائی میں مصروف ہیں۔وہیں بی آر ایس پارٹی حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے اپنی ہیٹ ٹریک کامیابی کے لیے کوشاں ہے۔!

یہ بھی پڑھیں

مذہبی منافرت امن و امان اور ملک کی ترقی کے لیے خطرہ، وزیراعظم نریندر مودی جھوٹ بولنے میں مصروف : تانڈور میں پرینکا گاندھی کا خطاب

 

 


Post Views: 148

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top