حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 53.15 فیصد پرامن رائے دہی، سات اسمبلی حلقہ جات میں حوصلہ افزاء ووٹنگ : تفصیلی رپورٹ


حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 53.15 فیصد پرامن رائے دہی،سات اسمبلی حلقہ جات میں حوصلہ افزاء ووٹنگ
چیوڑلہ میں زیادہ اور سیری لنگم پلی میں سب سے کم ووٹنگ، وزیراعلیٰ،اسپیکر اور دیگر نے ووٹ ڈالے

حیدرآباد/وقارآباد : 14؍مئی
( سحر نیوز ڈاٹ کام/میڈیا ڈیسک)

ریاست تلنگانہ میں موجود 17 پارلیمانی حلقوں میں شامل حلقہ پارلیمان چیوڑلہ کےلیے رائےدہی کا کل 13 مئی کو پرامن اختتام عمل میں آیا اس حلقہ میں ضلع رنگا ریڈی کے چار اسمبلی حلقہ جات مہیشورم،راجندر نگر،سیری لنگم پلی اور چیوڑلہ کےعلاوہ وقارآبادضلع کے تین اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور اور پرگی شامل ہیں۔

کل رات 10 بجے مسٹر ششانک آئی اے ایس، رٹرننگ آفیسر،پارلیمانی حلقہ چیوڑلہ و کلکٹر ضلع رنگا ریڈی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کل شام 5 بجے تک حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں بحیثیت مجموعی 53.15 فیصد رائے دہی ہوئی ہے۔

مرکزی الیکشن کمیشن کےسیکریٹریٹ سے کل شام جاری کردہ تلنگانہ کے 17 لوک سبھا حلقوں میں ریکارڈ شدہ رائے دہی کا جو تناسب جاری کیا گیا اس میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں شام 30-5 بجے تک 53.15 فیصد بتایا گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں جملہ 29 لاکھ 38 ہزار 370 رائے دہندے موجود ہیں۔جن میں مرد رائے دہندگان کی تعداد 15 لاکھ 4 ہزار 260 ہے۔جبکہ 14 لاکھ 33 ہزار 830 خاتون رائے دہندگان کے علاوہ 280 تیسری صنف کے رائے دہندگان شامل ہیں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگاکہ 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 53.25 فیصد رائے دہی ریکارڈ ہوئی تھی اور 13 لاکھ 998 رائےدہندگان نےاپنے حق رائے دہی کا استعمال کیاتھا۔وہیں 2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں 60.51 رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔

پریس نوٹ کےمطابق حلقہ پارلیمان چیوڑلہ کےسات اسمبلی حلقہ جات میں جملہ 2877 مراکز رائے قائم کیےگئےتھے اور رائے دہندگان کوسرکاری سطح پر اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے ترغیب دی جاتی رہی تھی بالخصوص دیہی عوام میں شعور بیداری پروگرام بھی منعقد کیےگئے اور گھر گھر ووٹر سلپ کی فراہمی یقینی بنایا گیا۔

پریس نوٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتےہوئے رائے دہی کے آغاز سےقبل ساڑھے پانچ بجے صبح علامتی ووٹنگ کا تجربہ کیا گیا اور 7 بجے صبح رائے دہی کا آغاز کیا گیا۔جس کے بعد اندرون دو گھنٹے ریکارڈ 10.28 فیصد رائے دہی ہوئی۔اور 11 بجے تک یہ تناسب 20.35 فیصد تک پہنچ گیا۔اس کےبعد دوپہر ایک بجے تک حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں 34.56 فیصد رائے دہی ہوئی۔بعدازاں شام 5 بجے تک رائے دہی کا تناسب 53.15 فیصد ریکارڈ ہوا۔

اس پریس نوٹ کے مطابق شام 6 بجے رائے دہی کے اختتام کے بعد ضلع رنگاریڈی میں موجود

⬅️ حلقہ اسمبلی مہیشورم میں 51.70 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ حلقہ اسمبلی راجندرنگر میں 53.13 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ حلقہ اسمبلی سیری لگم پلی میں سب سے کم یعنی 43.11 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ حلقہ اسمبلی چیوڑلہ میں سب سے زیادہ یعنی 70.84 فیصد رائے دہی ریکارڈ ہوئی ہے۔

پریس نوٹ کےمطابق شام 6 بجے رائے دہی کا وقت ختم ہوجانےکے بعد جو رائے دہندے انتخابی مراکز کی قطاروں میں موجود تھے ان کو بھی ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

دوسری جانب کلکٹر وقارآباد ضلع و الیکشن آفیسر مسٹر نارائن ریڈی کی جانب سے کل شام 30-5 بجے تک ریکارڈ کی گئی رائے دہی کے اعداد و شمار جاری کیے گئے اور حتمی اعداد و شمار رات دیر گئے تک جاری کیےجانے کا امکان جتایا گیاتھا۔ان جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں شامل وقار آباد ضلع کے

⬅️ حلقہ اسمبلی پرگی میں 62.59 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔

⬅️ حلقہ اسمبلی وقارآباد میں 66.86 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔

⬅️ حلقہ اسمبلی تانڈور میں 63 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جبکہ وقارآباد ضلع میں موجود حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں 65.54 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ ان ساتوں اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی کے تناسب میں مزیر اضافہ کا امکان ہے۔!

کل رات 12 بجے کلکٹر وقارآبادضلع و الیکشن آفیسر مسٹر نارائن ریڈی کی جانب سے میڈیا کےلیے رائے دہی کاریکارڈ شدہ تناسب جاری کیا گیا۔جس کے مطابق

حلقہ اسمبلی پرگی میں جملہ 65.18 فیصد۔

حلقہ اسمبلی وقارآباد میں 69.44 فیصد۔

حلقہ اسمبلی تانڈور میں 66.34 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔

جبکہ وقارآباد ضلع میں موجود حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں 70.14 فیصد رائے دہی ریکارڈ ہوئی ہے۔

بعدازاں آج 14 مئی کی شام کلکٹر وقارآبادضلع و الیکشن آفیسر مسٹر نارائن ریڈی کی جانب سے میڈیا کے لیے جاری کردہ تیسری رپورٹ میں ضلع وقارآبادکے چار اسمبلی حلقہ جات میں کل ہوئی رائےدہی کا قطعی تناسب کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جس کے تحت 

⬅️ حلقہ اسمبلی پرگی میں : 66.94 فیصدرائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ حلقہ اسمبلی وقارآباد میں : 70.44 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ حلقہ اسمبلی تانڈور میں : 67.34 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسی طرح حلقہ پارلیمنٹ محبوب نگر میں شامل ضلع وقارآباد کے حلقہ اسمبلی کورنگل میں کل 71.05 فیصد رائے دہی ہوئی ہے۔

لوک سبھا انتخابات کی رائے دہی میں حصہ لینے کی غرض سے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی جوکہ وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل کی نمائندگی کرتے ہیں نے اپنی اہلیہ محترمہ اور دختر کے ساتھ کوڑنگل پہنچ کرضلع پریشد اسکول میں قائم مرکز رائے دہی میں اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا تاہم یہ اسمبلی حلقہ پارلیمانی حلقہ محبوب نگر میں شامل ہے۔

وہیں اسپیکر تلنگانہ اسمبلی جی۔پرساد کمار نے مرپلی منڈل کے مرکز رائے دہی اپنا ووٹ ڈالا۔جبکہ رکن پارلیمان و کانگریسی امیدوار حلقہ پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے معین آبا د منڈل کے مرکز رائے دہی پر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

اسی طرح سابق ریاستی وزیر و موجودہ ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی نے تانڈور کے گورنمنٹ جونیئر کالج میں قائم اور صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد ضلع و کانگریسی امیدوار حلقہ لوک سبھا ملکاجگیری مسز  پی۔سنیتا مہندر ریڈی نے اسمبلی حلقہ تانڈور کے یالال منڈل کے مرکز رائے دہی پہنچ کر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی نے اپنی اہلیہ محترمہ ارونا ریڈی اور دیگر افراد خاندان کےساتھ تانڈورکے گورنمنٹ اسکول شاہی پور میں قائم مرکز رائے دہی میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔

سابق وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے اپنے افراد خاندان کے ساتھ چیوڑلہ منڈل کے موضع کوکنٹلہ کے مرکز رائے دہی پر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

سابق رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے اپنی والدہ محترمہ پرومودنی دیوی رکن ضلع پریشد اور دیگر افراد خاندان کےساتھ بشیر آباد منڈل میں موجود اپنے آبائی موضع اندر چیڑ پہنچ کر مرکز رائے دہی پر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

اسی طرح کلکٹر وقارآباد ضلع و الیکشن آفیسر نارائن ریڈی نے اپنی اہلیہ محترمہ اور ایس پی وقارآباد ضلع نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے وقارآباد کے سنگم لکشمی گورنمنٹ ہائی اسکول پہنچ کر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

بی جے پی امیدوار و سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشور ریڈی نے چیوڑلہ منڈل کے گولا پلی موضع میں قائم مرکز رائے دہی پر اپنے افراد خاندان کے ساتھ پہنچ کر رائے دہی میں حصہ لیا۔

اس سلسلہ میں کلکٹر و الیکشن آفیسر ضلع وقارآباد مسٹر نارائن ریڈی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ضلع کے کسی بھی مقام پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔نہ کسی مقام پر ای وی ایم کا کوئی مسئلہ پیدا ہوا اور نہ ہی جھڑپیں ہوئیں اور پرامن طور پر انتخابی عمل مکمل کرلیا گیا۔انہوں نے اس سلسلہ میں تمام عہدیداروں، محکمہ پولیس، عوام اور رائے دہندوں کے بہترین تعاون پر خوشی کا اظہار کیا۔

جبکہ ایس پی وقارآباد ضلع مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بھی میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہاہےکہ ضلع کےتمام مقامات پر پرامن رائےدہی ہوئی۔کہیں بھی کوئی نقص امن کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ضلع ایس پی نےضلع میں پرامن رائےدہی اور انتخابی عمل کے پرسکون ماحول میں اختتام پر اطمینان کا اظہار کرتےہوئے انتخابی عہدیداروں،اپنے ماتحت پولیس عہدیدارو،پولیس عملہ،عوام اور تمام رائے دہندوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس طرح حلقہ پارلیمان چیوڑلہ کے رائے دہندگان نے امیدواروں کی فتح و شکست کا اپنا فیصلہ ای وی ایمز میں مہر بند کردیا ہے۔ امیدواروں کے ساتھ ساتھ ملک اور ریاست تلنگانہ کے عوام کو یکم جون تک ملک کی دیگر ریاستوں میں مزید تین انتخابی مراحل کی تکمیل کے بعد 4 جون کو ملک بھر میں ہونے والی ووٹوں کی گنتی اور اسی دن انتخابی نتائج کے اعلان کا بے صبری کے ساتھ انتظار ہے۔

” یہ بھی پڑھیں “

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں کانگریس اور بی جے پی کی زور آزمائی، حلقہ میں جملہ 29 لاکھ، 38 ہزار 370 ووٹرز : خصوصی رپورٹ

 

مذہبی منافرت امن و امان اور ملک کی ترقی کے لیے خطرہ، وزیراعظم نریندر مودی جھوٹ بولنے میں مصروف : تانڈور میں پرینکا گاندھی کا خطاب

 


Post Views: 103

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top