داعش، ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لیے پاکستان، امریکہ تعاون اہم: مشترکہ اعلامیہ


امریکہ اور پاکستان نے پیر کو ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری خطے میں سلامتی کو فروغ دے گی۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے مذاکرات کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ اور امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق جمعے کو واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ کی کوآرڈینیٹر برائے انسداد دہشت گردی سفیر ایلزبتھ رچرڈ اور اقوام متحدہ  کے لیے پاکستان کے ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ اور او آئی سی میں سفیر سید حیدر شاہ نے امریکہ پاکستان انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔

یہ شراکت داری بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دو طرفہ اور علاقائی تعاون کے ماڈل کے طور پر کام کرے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ میں علاقائی اور عالمی سلامتی کو درپیش اہم ترین چیلنجز بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا۔‘

یہ بات چیت خطے میں انسداد دہشت گردی پر مرکوز تھی جس میں باہمی دلچسپی کے شعبوں پر توجہ دی کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور پاکستان کے اعلیٰ عہدے داروں نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں وسیع تعاون اور استعداد کار بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں تکنیکی مہارت اور بہترین طریقوں کا تبادلہ، تفتیشی اور استغاثہ کی معاونت، سرحدی سکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے اور تربیت کی فراہمی شامل ہے۔

مارچ 2023 میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشت گردی کے آخری مکالمے کے بعد سے تین سو سے زائد پولیس اور ’فرنٹ لائن ریسپانڈرز‘ کی تربیت بھی شامل ہے۔

اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ اور عالمی انسداد دہشت گردی فورم جیسے کثیر جہتی روابط کو مضبوط بنایا جائے گا۔

امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں نے ان موضوعات پر رابطے بڑھانے اور مکمل حکومتی نقطہ نظر کے ذریعے پرتشدد انتہا پسندی کا پتہ لگانے اور اس کی روک تھام کے لئے تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔

انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ میں علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام دونوں میں کردار ادا کرنے کے لیے امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔



Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top