پورشے نے ہزاروں الیکٹرک کاریں واپس کیوں منگوا لیں؟


جرمن سپورٹس کار ساز کمپنی پورشے نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنی بیٹریوں میں آگ لگنے کے خطرے کے پیش نظر الیکٹرک ٹائیکین ماڈل کی ہزاروں گاڑیاں واپس منگوا لی ہیں۔

ایک ترجمان نے بتایا کہ کچھ بیٹریوں میں خراب سیلز شارٹ سرکٹ ہو کر آگ بھڑکا سکتے ہیں۔

ابتدائی طور پر 858 ٹائیکین گاڑیوں کو خطرے کے طور پر شناخت کر کے جنوری میں واپس منگوایا گیا لیکن تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد کمپنی نے فیصلہ کیا کہ مزید گاڑیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

پورشے کا کہنا تھا کہ چار دروازوں والی 2936 کاروں میں ’بے قاعدگیاں‘ پائی گئیں۔ 600 کلوگرام (1300 پاؤنڈ) کی بیٹریوں کے ماڈیولز کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید 4522 ٹائیکین گاڑیاں کا معائنہ نہیں کیا گیا اور انہیں جانچ کے لیے ورک شاپ پر لایا جانا چاہیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رینالٹ، فورڈ اور جنرل موٹرز کو حال ہی میں خراب بیٹریوں کی وجہ سے اپنے کئی ماڈلز کو واپس منگوانے پڑے۔

ٹائیکین کی بیٹریوں کے سیل کوریا کی ایل جی کمپنی نے تیار کیے ہیں جب کہ خود بیٹریاں جرمنی میں اسمبل کی جاتی ہیں جس کے بعد انہیں پورشے کی زوفن ہاؤسن فیکٹری میں گاڑیوں میں فٹ کیا جاتا ہے۔

2019 میں لانچ ہونے والی ٹائیکین کی پچھلے سال 40 ہزار سے زیادہ گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

پورشے کی یہ پہلی الیکٹرک گاڑی برانڈ کے لیے بہت اہم ہے کیوں کہ کمپنی توقع کر رہی ہے کہ 2030 تک اس کی 80 فیصد سیل الیکٹرک گاڑیاں ہوں گی۔



Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top