ہردیپ سنگھ نجر قتل معاملہ:کینیڈا ،ہندوستان کے ملوث ہونے کے موقف پر اٹل – Siasat Daily


کینیڈا اپنے شہریوں کی حفاظت کا پابند، وزیر خارجہ میلانیاجولی کی میڈیا سے بات چیت

ٹورنٹو : کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان الزامات پر قائم ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں انڈین ایجنٹس ملوث ہیں۔انڈین اخبار اکنامک ٹائمز نے کینیڈا کے میڈیا چینل کیبل پبلک افیئرز چینل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ میلانیا جولی نے کہا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی تحقیقات رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کر رہی ہے۔ کینیڈا اپنے شہریوں کی حفاظت کرتا رہے گا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کینیڈا کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ ہمارا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے اور ہم ان الزامات پر قائم ہیں کہ کینیڈا کی سرزمین پر ایک کینیڈین شہری کو انڈین ایجنٹوں نے قتل کیا۔‘کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میں یا کوئی اور حکومتی عہدیدار مزید تبصرہ نہیں کرے گا۔ میں انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال پر یہ کہوں گی کہ میرے خیال میں یہ اْس وقت بہتر رہتے ہیں جب سفارت کاری نجی سطح پر رہے اور کینیڈا سب سے پہلے اپنے شہریوں کی حفاظت کرتا رہے گا اور اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ ہمیں اپنی خودمختاری کا بھی تحفظ کرنا ہے اور پھر ہمیں اپنے قانون کی بھی پاسداری کرنی ہے۔‘ان کا یہ بیان کینیڈا کی پولیس کی جانب سے جمعہ کو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں تین ملزمان کی گرفتاری کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔کینیڈین پولیس نے کہا ہے کہ وہ زیر حراست افراد کی انڈین حکومت سے ممکنہ روابط کی تحقیقات کر رہی ہے۔45 سالہ ہردیپ سنگھ نجر کو جون 2023 میں وینکور کے مضافاتی علاقے سرے میں قتل کر دیا گیا تھا۔کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ اس کیس میں انڈین حکومت کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد نئی دہلی کے ساتھ سفارتی بحران پیدا ہو گیا تھا۔اسسٹنٹ کمشنر ڈیوڈ ٹیبول نے کہا ہے کہ معاملہ ابھی زیر تفتیش ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ہردیپ سنگھ نجر کینیڈین شہری تھے جنہوں نے خالصتان کے قیام کے لیے مہم چلائی تھی۔ کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند تنظیموں کی موجودگی کی وجہ سے نئی دہلی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انڈیا نے نجر کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے کینیڈا اور امریکہ میں قتل کی سازشوں میں انڈین انٹیلی جنس سروس کے مبینہ کردار پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔کینیڈا نے سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں مبینہ طور پر انڈین حکومت کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کرتے ہوئے ایک اعلٰی انڈین سفارت کار کو ملک بدر کر دیا تھا۔انڈیا نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے جوابی اقدام کے طور پر کینیڈین سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top